اور ایک بار پھر گلگت بلتستان کی خواتین کے مشترکہ رکھوالے غیرت غیرت کھیلنے کے لیے اندھا دھند میدان میں کود پڑے ہیں۔

دوسروں کی عورتوں کوطوائف بلانے والے پہلے یہ طے کر لیں کہ کیا وہ واقعی گلگت بلتستان کی تہذیب کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں؟ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ جن چند لڑکیوں نے ان کی طے کردہ حدود سے قدم باہر نکالے ہیں، اس لیے ان کی تلملاہٹ عروج پر ہے۔۔۔اور اتنی کہ خود بد تہذیب ہوئے جارہے ہیں۔
صنم بلوچ کے مارننگ شو کو بنیاد بنا کر ایک مخصوص فرقے کی لڑکیوں کو طوائف اور ناچنے والیاں کہنے والوں کی اپنی ذہنیت کس قدر شفاف ہے، صاف ظاہر ہورہا ہے۔ وہ شو میں نے بھی دیکھا تھا، کسی نے ان لڑکیوں کو مجبور نہیں کیا تھا کہ وہ رقص میں شامل ہوں، نہ ہی وہ کوئی ننھی بچیاں تھیں جو اپنا اچھا برا سمجھنے کی اہل نہ ہوں۔ بات ان کی مرضی کی تھی۔ اور بس یہی بات ان تمام صاحبان کو کانٹے کی طرح چبھ گئی ہے۔


بھئی کب تک یہ سب چلے گا؟ آپ ننانوے فیصد خواندگی کی شرح کو بھی اپنے سر پر تمغے کی طرح سجانا چاہتے ہیں اور اتنی سی بات نہیں سمجھ آرہی ہے کہ ایک باشعور شخص اپنے ہر عمل کے لیے خود ذمہ دار ہے نہ کہ اس کا فرقہ، مسلک ، قومیت یا جنس۔ اسی لیے برائے مہربانی دو لڑکیوں کی مرضی اور خوشی کو مذہبی و سیاسی رنگ دے کر تماشہ نہ بنائیں۔


تہاں جس کلچر کی حفاظت کرنے کی خاطر انسان کو گالی گلوچ اور عورت ذات کی تحقیر کا سہارا لینا پڑے۔۔۔اس کلچر پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔