سفید چادر میں لپٹی کائنات
وسیع اور پراسرار
سرد موسم کی پہلی سوغات
اپنی جھولی میں بھرے مجھ سے ملنےآئی ہے
میں کئی موسموں سے
ان دیکھے دکھ کے بوجھ سے نڈھال ہوں
ہلکی سی دستک پر
لپک کر دروازہ کھول دیتی ہوں
سامنے دودھیا روشنی کی وہ دھار پھیلی ہے
گھر کے تمام جھروکے
جس کے انتظار میں بجھ چکے تھے
میں سمجھ جاتی ہوں
برف کا گرنا تو ایک بہانہ تھا
بس روشنی کو آنا تھا



اور اس سے پہلے کہ میری آنکھوں میں سمائے خواب
ٹوٹ جاتے
آس کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جاتی
میرے نقوش میں گھلے تمہارے رنگ ماند پڑ جاتے
اور میری روح پر لگے ہجر کے گھاؤ ناسور بن جاتے
تم آگئے ہو
۔
تم آئے ہو تو یاد آیا ہے
کہ وحشتوں کو میرا سائباں بنا کر تم نے انجان منزلوں کی راہ چنی تھی
مگر میں جہاں تھی، وہیں کھڑی رہ گئی تھی
دھوپ، چھاؤں سے بے نیاز
جانتی تھی تمہارے پاؤں میں پڑا چکر یہیں آکر تھمنا ہے
۔
اور اب تمہیں اپنے سامنے پاکر
ہاتھ بڑھا کر چھونے سے ڈرتی ہوں
جانتی ہوں برف ہوتا میرا ہر احساس تمہارے چھونے لینے سے پگھلتا ہے
ہجر کے ڈھلتے موسم کو دیکھ کر
میں اپنی نیم خوابیدہ روح کو جاگتا دیکھتی ہوں
اور سوچتی ہوں
میں جو بنجر ہو چلی تھی
اس کے لمس سے پگھلتی ہوں
زندگی کسی مدھر سُر کی مانند بجنے کو بیتاب ہے
اور یہ میرے اطراف اٹھتی مہک کیسی ہے
جو کنول کی مانند
میرے دلدل دل میں
کھل اٹھی ہے
۔
تمہارا ہاتھ تھام کر
میں اس دلکش احساس کو
اپنی سانسوں میں اتار لیتی ہوں
برف کے گالے میرے بدن میں روشن آگ پر
قطرہ قطرہ گرتے ہیں
اور میری روح میں سما جاتے ہیں