جو اپنے مرکز سے ہٹ چکا تھا
ہزار ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا
فضا میں تحلیل ہو کر اپنا
مقام یکسر بھلا رہا تھا
کوئی نشاں تھی نہ کوئی منزل
ہر اک دِشا میں بھٹک رہا تھا
کبھی معلق فضا میں ہو کر
کبھی اندھیروں میں ڈوبتا تھا
امید تک یاس بن چکی تھی
تبھی کھلا من میں ایک روزن
تھی روشنی کی لکیر ہلکی
مگر وہی ذادِ راہ ٹھہری
یہی تو تھا وہ
جسے وہ یکسر بھلا چکا تھا
۔
وجودِ چاہت
اگر چہ گمنام ہو چکا تھا
مگر ابھی روشنی تھی زندہ
بھٹکنے کا ڈر نہیں تھا لیکن
عجیب گمنام منزلیں تھیں
ہزار پردے ندامتوں کے
جب ایک اِک کر کے گر رہے تھے
دلوں میں روشن الاؤ کر کے
پلٹنے کا عندیہ بھی دے کر
وجود پھر سے بکھر چکا تھا
۔
وجودِ چاہت
ہیں جس کے دم سے
ندامتوں کے یہ زندہ لمحے
وہ قیمتی معتبر اثاثہ
جو آنکھ میں اشکوں کی ہیں لڑیاں
اگر جو تھم جائے گریہ زاری
جو صاف ہوں گدلی میلی نظریں
تبھی دکھادوں
وجودِ چاہت ہی معتبرہے
وہی ہے اصل اور راہ بر ہے۔