پی ٹی آئی گلگت بلتستان  کارکنان کے نام اہم پیغام. پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان کو اسلام علیکم.

آپ تمام سے گزارش ہے کہ آپس کے اختلافات, لڑائی جھگڑے اور تفرقات سے تھوڑا سا وقت نکالیں, اور تھوڑی بہت فیس بک سے بھی نظر ہٹا لیں. کیونکہ اب کام کا وقت آگیا ہے.

گلگت بلتستان کے لوگوں کے لئے, اپنے اچھے ساکھ کے لئے اب وقت نکالیں. ایک ہی موضوع ہے جو آپ کے سامنے رکھا جا رہا ہے. وہ ہے حکومت کے پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ

یہ وقت کا تقاضا ہے کہ آپ عوام کو باور کرا دیں کہ آپ نے واقعی میں انصاف اور تبدیلی کا علم اٹھا رکھا ہے. اس منصوبے کی تکمیل شفاف اور منصفانہ طریقے سے کرنے کی ذمہ داری آپ پہ ہے. آپ اسکو ایک مثبت انداز میں چلا کر علاقے کے ساتھ خلوص کا اظہار کرتے ہیں یا اس کا حشر وزیراعظم یوتھ لون جیسا کر کے اقرباء پروری کو مزید ہوا دیتے ہیں.

یہ سب آپ پہ منحصر ہے. اس منصوبے کے لئے آپ کے پاس ایک مربوط حکمت عملی ہو, لوگ ہوں, جو نچلی سطح تک معلومات اور طریقہ کار بتا دیں. گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کی حالت آپ سب کے سامنے ہے. کیسے ممکن ہوگا کہ مستحق گھرانے کی اس تک پہنچ ہو جو دور دراز علاقے میں رہتا ہے.



علاوہ ازیں, کیا کوئی ایسا طریقہ کار موجود ہے؟ جس کے ذریعے ان لوگوں کو ترجیح دی جائے جو پہلے سے ہی بے گھر ہیں, چاہے وہ معاشی کمزوری کی وجہ سے ہیں یا قدرتی آفات کی وجہ سے. اگر ایسا کوئی طریقہ یا قانون نہیں ہے تو کیا اس پہ کوئی سفارشات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں. ؟ چونکہ اس منصوبے میں گلگت بھی شامل ہے, لہذا گلگت بلتستان کے کارکنان کی اس معاملے اہم ذمہ داری بنتی ہے, خاکم بدہن, ایسا نا ہو کہ اس کو عوام کے فلاح کے لیے استعمال نہ کریں, بلکہ اپنے اور رہنماؤں کے فائدے کے لیے استعمال کریں. ہمیں قوی امید ہے کہ یہ منصوبہ عوام کے فلاح کے لیے ہی ہوگا. آخر میں اس بات کی وضاحت لازمی ہے کہ میرا فی الحال کسی سیاسی و مذہبی جماعت سے تعلق نہیں ہے, اسلئے ان باتوں کو میری ذاتی رائے سمجھا جائے. یہ بھی جاننا لازمی ہے کہ ماضی میں ایسے کئی منصوبے گلگت بلتستان میں متعارف ہوئے ہیں اور انکا نتیجہ آپ کے سامنے ہے, جو کرپشن اور اقرباء پروری کا شکار ہوئے ہیں. تاریخ کہیں خود کو دہرا نہ دے. ان تمام باتوں کو تحریر کرنے کا مقصد انکی نشاندہی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں اور دوستوں کو ہیلو, کم بیک ٹو دی رئیل ورک کہنا ہے.

وسلام